نومبر 26, 2020

پاکستان وائس

امریکہ کا مقبول ترین اردو اخبار

حالیہ امریکی انتخابات میں مسلمانوں نے کسے ووٹ دیا؟

حالیہ امریکی انتخابات میں مسلمانوں نے غیرمعمولی جوش و خروش سے ووٹ ڈالا۔ ’ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن‘ کے ایک جائزے کے مطابق دس لاکھ مسلمانوں نے ان انتخابات میں ووٹ کاسٹ کیا، جن میں سے70فیصد نے جوبائیڈن کو ووٹ دیا جبکہ 17فیصد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 2016ء کی نسبت اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں چار فیصدکا اضافہ ہوا۔ چار برس قبل 13فیصد مسلمانوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ مسلمان امریکیوں نے نہ صرف ووٹنگ میں ریکارڈ حصہ لیا بلکہ 50 سے زائد مسلمان امیدوار منتخب بھی ہوئے۔ یاد رہے کہ مجموعی طور پر 110مسلمان امیدوار تھے ۔

سن 2017ء میں شائع ہونے والی ’ پیو ریسرچ سنٹر ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد 30لاکھ 45 ہزار ہے۔ ان میں 41 فی صد سفید فام ہیں،28 فیصد ایشیائی ، 20 فیصد سیاہ فام اور آٹھ فیصد ہسپانوی ہیں ۔ مسلمان زیادہ تر بڑے شہروں میں رہتے ہیں ۔ان میں سے 58 فیصد امریکا منتقل ہوئے ہیں ۔ 18فیصد امریکا میں پیدا ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی مسلمان اگلے بیس برسوں میں امریکہ میں دوسرا بڑا گروہ ہوں گے ۔ اس وقت یہودی عیسائیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں ۔

جب امریکا میں پالیسیوں کی بات آتی ہے تو مسلمان مختلف گروہوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ اخلاقی اور سماجی ایشوز پر وہ ری پبلیکن پارٹی کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ پاتے ہیں، جہاں تک ثقافتی اور مذہبی معاملات کا تعلق ہے تو وہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی سوچ کو پسند کرتے ہیں ۔ کانگریشنل ایلکٹورل سروے کے مطابق 18فیصد امریکی مسلمان اپنے آپ کو قدامت پسند کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں،51 فیصد ماڈریٹ جبکہ 31 فیصد لبرل ۔88 فیصد مسلمان اسلحہ پر سختی سے قابو کے حق میں ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 96 فیصد ڈیموکریٹس بھی اسی حق میں ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے جائزے (مارچ2020ء) کے مطابق 65 فیصد مسلمان سیاہ فاموں کی تحریک ’ بلیک لائیوز میٹر‘ کی حمایت کرتے ہیں ۔ مذہبی گروہوں کی طرف سے اس تحریک کی حمایت کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں کی طرف سے سب سے زیادہ ہے ۔

یہاں آدھے سے زیادہ مسلمان مذہبی آزادی کے علمبرداروں کے ساتھ ہیں ۔ امریکی مسلمان چاہتے ہیں کہ انھیں بھی احترام دیا جائے اور امریکی معاشرے کا حصہ مانا جائے۔ ان توقعات کے تناظر میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیاں ان کے نزدیک بہتر ہیں ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی مسلمانوں کی اکثریت (55 فیصد ) ڈیموکریٹس کی ہم جنس پرستی کی پالیسی کی مخالف ہے ۔ حالیہ امریکی انتخابات سے پہلے جائزہ لیا گیا تو مسلمانوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکی معیشت کی بحالی کے لئے زیادہ بہتر ہیں ۔ مسلمان ری پبلیکنز کی پالیسیوں کو متعصبانہ اور مسلمان مخالف قرار دیتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کو اسلامی اخلاقیات اور خاندانی اقدارکے منافی قرار دیتے ہیں۔

حالیہ انتخابات سے قبل رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ 81 فیصد مسلمانوں نے کہا، وہ انتخاب کے دن ہی ظاہر کریں گے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے ۔ یاد رہے کہ ایونجلیکل طبقہ کے 92 فیصد اور کیتھولکس کے91 فیصد افراد نے بھی یہی بات کہی تھی ۔

گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کے بعد مسلمانوں نے اپنی حمایت کا پلڑا تبدیل کیا۔ ان واقعات سے پہلے غیر سیاہ فام مسلمانوں میں سے 80 فیصد ری پبلیکن پارٹی کا ساتھ دیتے تھے جبکہ قریباً تمام سیاہ فام ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے تھے ۔ تاہم اس کے بعد جارج بش جونئیر ( ری پبلیکن پارٹی) نے جس انداز میں ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ لڑی، اس نے مسلمانوں کو دوسرے پلڑے کی طرف جانے پر مجبور کیا ۔

مسلمان سمجھتے تھے کہ بش اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ چنانچہ 2004ء کے انتخابات میں مسلمانوں کی طرف سے ری پبلیکن پارٹی کی حمایت میں سات فیصد کی کمی دیکھی گئی ۔ 2008ء کے انتخابات میں مسلمان مزید بڑی تعداد میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف چلے گئے۔2016ء میں بھی مسلمانوں میں یہی رجحان دیکھنے کو ملا، 82 فیصد امریکی مسلمانوں نے ہیلری کلنٹن کی حمایت کی ۔ 2018ء تک ری پبلیکن پارٹی کے لئے مسلمانوں کی حمایت 10فیصد تک رہ گئی۔

اس کے بعد ٹرمپ کے لئے مسلمانوں کی پسندیدگی میں اضافہ ہونے لگا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ امریکی معیشت کی بہتری لئے زیادہ مناسب کوششیں کر رہے ہیں اور وہ مشرق وسطیٰ کی لڑائیوں میں سے امریکا کو الگ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے دو معاملات نے مسلمانوں کو ٹرمپ سے مزید بے زار کیا تھا۔ اولاً مسلمانوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنا، ثانیاً امریکی سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کیا، جس کا مطلب تھا کہ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا۔ ان اقدامات نے مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کو ان سے دور کیا۔

صدارتی انتخاب سے پہلے ڈیبیٹس میں دونوں امیدواروں نے واضح طور پر ظاہر نہیںکہا تھا کہ وہ صدر بن کر کیا خارجہ پالیسی رکھیں گے۔ اس تناظر میں مسلمان ووٹرز پہلے مخمصے کا شکار رہے کہ وہ کسے ووٹ دیں، آخرکار انھوں نے جو بائیڈن ہی کے حق میں فیصلہ کیا جو انھیں باقی امریکیوں جتنا احترام دینے کا وعدہ کر رہے تھے۔ امریکی انتخابات میں مسلمان ووٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے بالخصوص مشی گن جیسی ریاست میں جہاں سخت انتخابی معرکہ ہوا ۔ یہاں عرب امریکن ووٹ بڑی تعداد میں موجود ہے ۔ مشی گن میں مسلمان کل آبادی کا تین فیصد ہیں ۔ اس قدر بڑی تعداد انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 2016ء کے انتخابات میں اس ریاست سے ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو محض 0.23 فیصد سے ہرایا تھا۔ حالیہ انتخاب میں جوبائیڈن مشی گن سے محض2.7 فیصد ووٹ زیادہ لے کر جیتے ہیں۔

اشتہار