ستمبر 26, 2020

پاکستان وائس

امریکہ کا مقبول ترین اردو اخبار

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کیجانب سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس

سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ نے نوٹس فرقہ وارانہ کیس کے ملزم شوکت علی کی ضمانت کے مقدمے میں لیا، جسٹس قاضی امین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں، عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ہماری کارکردگی اور فیصلوں پر عوام کو بات کرنے کا حق ہے، نجی زندگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے، کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہورہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا، کوئی یوٹیوب پر چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے اور ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے ۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہوگیا، ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی اے حکام نے کہا کہ ہم انفرادی مواد کو ہٹا نہیں سکتے، صرف رپورٹ کرسکتے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کئی ممالک میں یوٹیوب بند ہےجبکہ کئی ممالک میں سوشل میڈیا کو مقامی قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور یورپی یونین کے خلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایسے جرم کے مرتکب کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی؟ عدالت نے وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔

جسٹس قاضی امین کا کہنا ہے کہ آرمی، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اُکسایا جاتا ہے۔ 

اشتہار